بہت زیادہ سوچنا
بہت زیادہ سوچنا
گزشتہ ٹاپک میں ہم نے ڈپریشن کی علامات کا تذکرہ کیا اور اب ہم ٹاپک وائز ڈپریشنڈپریشن میں پیش انے والے مسائل پر گفتگو کریں گے
Overthinking
اوور تھنکنگ کیا ہے بہت زیادہ سوچنا بار بار سوچنا لگاتار سوچنا اور سوچتے ہی چلے جانا اوور تھنکنگ ہے
اکثر لوگوں کے ساتھ ہی مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ بہت سوچتے ہیں یہاں تک کہ وہ سوچنے کے عادی ہو جاتے ہیں سوچنا ان کی عادت ہو جاتی ہے پھر وہ چاہیں یا نہ چاہیں سوچیں ان کو اتی رہتی ہیں
پھر یہ سوچ اور یہ خیالات ان کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں وہ اس قدر سوچوں میں گم رہتے ہیں اکثر ان کو یہ بھی نہیں معلوم ہوتا کہ ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے وہ تنہائی میں ہوں یا مجلس میں ہوں کسی خیال میں گم رہتے ہیں کسی نہ کسی سوچ میں ڈوبے رہتے ہیں
یہ سوچ گویا ان کی ذات کے ساتھ لازم و ملزوم ہو جاتی ہے اور یہیں سے ان کے ڈپریشن کا اغاز ہوتا ہے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا ان کے ساتھ ہوتا کیوں ہے وہ اس قدر کیوں سوچتے ہیں ایسا ان کے ساتھ اس لیے ہوتا ہے کہ یہ
اب ان کے لیے غیر اختیاری معاملہ بن چکا ہوتا ہے وہ بات کرتے کرتے بھی کسی سوچ میں کھو جاتے ہیں اپنے سامنے کچھ دیکھیں تو اس سے متعلق سوچنا شروع کر دیتے ہیں
بہت زیادہ سوچنا
اس کا اغاز کیسے ہوتا ہے
بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ہماری زندگی میں کوئی مسئلہ چل رہا ہوتا ہے ہم اس مسئلے کو حل نہیں کرتے بلکہ اس ٹینشن کو لے کر چلتے رہتے ہیں روز روز کی یہ ٹینشن ہمارے ذہن پہ اثر ڈالتی ہے اور پھر ہم اس کے متعلق سوچنے لگ جاتے ہیں صرف ایک ٹینشن بار بار
ہماری انکھوں سامنے ہو رہی ہوتی ہے ہم اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں تو یہ ہمارے اوپر اثر چھوڑتی رہتی ہے اور ہمارا وقت اس مسئلے کے ساتھ گزرتا رہتا ہے اور ہم ایک لمبے عرصے تک اس ٹینشن میں رہتے ہیں لیکن اس کو حل نہیں کرتے تو ہمارا دماغ ٹینشن اور
سوچ کا شکار ہو جاتا ہے اور وہ مسلسل سوچنے کا عادی ہو جاتا ہے جس سے اس کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے اور یہ سوچیں ہم پر حاوی ہو جاتی ہیں
حل
خوش شریعت مطہرہ کے اندر کوئی بھی ایسا مسئلہ نہیں ہے جس کا حل نہ بتلایا گیا ہو ہر مسئلے کا حل بتایا گیا ہے ہم اس مسئلے کا حل شریعت میں ڈھونڈیں جو حل شریعت بتاتی ہے وہ کر دیں اور اس ٹینشن سے جانچ چھڑائیں سے ہی اپ کا وہ مسئلہ حل ہوگا ٹینشن خود
بخود ختم ہو جائے گی اور جیسے ہی ٹینشن ختم ہوگی اپ کی طبیعت ہشاش بشاش ہو جائے گی ان سوچوں اور فکروں سے اپ کو چھٹکارا مل جائے گا
بہت زیادہ سوچنا | (پارٹ 2)ڈپریشن پر کیسے قابو پایا جاے | Stress | Ptsd Symptoms | Stress Symptoms | Dipression(T0pic 2) | Anexity | The Best Conversation about stress
کسی بھی مسئلے کو ایک لمبے عرصے تک چلانا اپ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے عرصے تک ٹینشن میں رہنا اپ کے اعصاب کو کمزور کر سکتا ہے یہ اعصابی کمزوری ہی کو ڈپریشن میں لے جاتی ہے
علماء سے رابطہ کریں مسئلے کا حل پوچھیں اور اسی کے مطابق اس کو حل کر دیں
بہت زیادہ سوچنا
دوسری وجہ
اگر اپ کے حالات ٹھیک نہیں ہیں حالات ٹھیک نہ ہونے کا مطلب کچھ بھی ہو سکتا ہے مالی مسائل بھی ہو سکتے ہیں رشتہ داروں
کے ساتھ مسائل بھی ہو سکتے ہیں اس کے علاوہ کچھ مسائل قدرتی افات اور مصائب سے بھی پیدا ہو جاتے ہیں تو حالات سے یہ تمام قسم کے مسائل مراد ہیں
ایک انسان کے حالات ٹھیک نہیں ہیں تو وہ سوچوں کا سہارا لیتا ہے وہ حقیقت کو تسلیم کرنے کی بجائے سوچوں کا سہارا لیتا ہے وہ دن رات ایک ہی تانے بانے میں لگا رہتا ہے سوچوں کے ذریعے اس گتھی کو سلجھانے میں لگا رہتا ہے لیکن حقیقت میں کچھ نہیں کرتا
صرف انہی سوچوں پر انحصار کرتا ہے اور دن رات خواب بنتا رہتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا خود بخود سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا
اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کرتا نہ ہی کوئی عمل کرتا ہے نہ ہی کوئی کام کرتا ہے تو دیکھیے خالص سوچوں سے تو کام نہیں
چلے گا نا ا بھی شروعات ہیں اس لیے اپ کو مسئلہ نہیں ہو رہا اپ کو لگتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ سب کچھ ٹھیک نہیں ہوگا اپ کو کوشش کرنی پڑے گی اپ کو محنت کرنی پڑے گی
ہمارے سامنے اسوہ رسول ہے انہوں نے محنت کی کوشش کی جنگیں لڑی تبلیغ کی پھر جا کے دین پھیلا وہ بھی تو ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھ
سکتے تھے کہ سب کچھ خود ہو جائے گا میں خالی دعائیں مانگتا رہتا ہوں سب کچھ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا کیوں ؟
اس لیے کہ وہ ہمیں طریقہ سکھانا چاہتے تھے کی زندگی میں کوئی مشکل ا جائے تو اس کا حل اس طرح سے نکالنا ہے محنت کرنی ہے
کوشش کرنی ہے ارادہ کرنا ہے اور مدد اللہ سے مانگنی ہے پھر دیکھنا تمہارے مسائل حل کیسے ہوتے ہیں ان کا حل اس طریقے کے مطابق ڈھونڈو گے جو تمہیں شریعت اسلامیہ نے بتایا ہے
لہذا کوشش کریں محنت کریں اور اس مسئلے کا حل مسئلے کا حل سوچیں اور اس کے بعد سوچوں کا کیپ چیپٹر بند کر دیں انشاءاللہ تمام مسائل حل ہو جائیں گے
جیسے جیسے مسائل پیش اتے جائیں ان کو اکٹھا نہ کریں ایسے ایسے ان کو حل کرتے جائیں جو مسئلہ پیش اگیا اسے حل کریں جو مسئلہ پیش اگیا اسے حل کریں بجائے اس کے کہ پہلے مسئلے کو چلاتے رہے پھر ایک اور مسئلہ اگیا اس کو چلاتے رہے پھر ایک اور مسئلہ ا گیا کیونکہ
زندگی تو نام ہی مسائل کا ہے ابھی ایک مسئلہ چل رہا ہوگا تو دوسرا پیدا ہو جائے گا ہم نے اگر پہلے مسئلے کا حل نہیں نکالا ابھی وہ چل رہا تھا ایک اور اگیا وہ چل رہا تھا ایک اور ا گیا تو اس طرح سے مسائل کا ایک جب گھٹا سا لگ جائے گا جو اپ کو ڈپریشن میں لے جائے گا
اور یہ سوچیں کہ زندگی مسائل کا دوسرا نام ہے یہ تو ہے ہی مسائل کی دنیا تو مسائل چلتے رہنے ہیں اور چلتے رہیں گےلیکن ان مسئلوں کو ساتھ ساتھ حل کرتے جانا ہے یہ اصل زندگی ہے
بہت زیادہ سوچنا
اگر سوچنے کی بہت عادت ہو
اگر کسی کو سوچنے کی بہت عادت ہو اور وہ بیماری کی صورت اختیار کر چکی ہو تو اس کا ایک ہی حل ہے ان سوچوں کو نظر انداز کرنا جیسے ہی کوئی خیال ائے کوئی سوچ ائے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کریں اسے ذہن سے ہٹانے کی کوشش کریں اور خود کو کسی
دوسرے کام میں مصروف کریں تاکہ اپ کا دھیان بٹ جائے لیکن اگر تمام تر کوشش کے باوجود اپ اس کو نظر انداز نہ کر سکیں تو پھر اس کا ایک اور سولیوشن ہے
دوسرا حل
اگر اپ ان کی سوچنے کی یہ عادت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اپ نظر انداز کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں لیکن نظر انداز کر نہیں پاتے کی سوچنے کی عادت اس سٹیج پر پہنچ چکی ہے کہ جب تک اپ سوچ نہ لیں اپ کو اس کو نہیں ملتا بے سکونی ان بے چینی کی
کیفیت طاری ہو جاتی ہے کیا سوچیں غیر اختیاری طور پر اپ پر حاوی ہو جاتی ہیں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو چاہ کر بھی اس ٹینشن سے نہیں نکل پاتے تو ان کے لیے ایک مشورہ ہے ایسا کر کے دیکھیں انشاءاللہ فائدہ ہوگا وہ سوچنے کا ایک وقت مقرر کر لیں دن میں کسی
بھی ٹائم کو مقرر کریں کوئی بھی وقت مختص کر لیں شروع میں چاہے ایک گھنٹہ تک رکھ لیں کہ فلاں وقت سے فلاں وقت تک میں نے سوچنا ہے اس سے اگے پیچھے سوچیں اپ کے ذہن میں ائیں بھی تو یہ سوچ کر ان کو روک لیں کہ سوچنے کا جو وقت میں نے
مختص کیا ہے اسی میں سوچوں گا اس طرح سے اپ کی سوچنے کی عادت اہستہ اہستہ کم ہونا شروع ہو جائے گی اور جب وہ وقت ائے تو اس وقت سوچیں اب بہت سی باتیں تو اپ کو ویسے ہی بھول جائیں گی اس وقت تک اور جو کچھ یاد ہوں گی اس پر کچھ تبصرہ فرما لیں
اپ کے ذہن میں کوئی سوچ انے لگے تو اس کو یہ سوچ کر روک دیں کہ یہ تو میں نے فلاں ٹائم میں سوچنا ہے فلحال میں اپنا یہ کام کر لوں جس طرح کرتے کرتے انشاءاللہ اپ کی عادت مسلسل چھوٹ جائے گی
جو اپ ناشتہ کر رہے ہیں تو اپ کا ذہن ادھر سوچے جا رہا ہے بازار میں سبزی خرید رہے ہیں اور ذہنی در اپنے کام میں لگا ہوا ہے دفتر میں کام کر رہے ہیں اور ذہن سوچوں میں گم ہے اور ان سوچوں کی وجہ سے کام بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہو پاتا اب جب اپ کسی
کام میں لگے ہوئے ہیں اس وقت اپ کو سو جائے تو اپ یہ سوچیں گے اس کو تو میں سوچنے کے وقت سوچوں گا فی الحال میں اپنا یہ کام کر لوں انشاءاللہ اپ کی عادت ختم ہو جائے گی اور پھر جب یہ عادت ختم ہو جائے تو پھر اہستہ اہستہ اس دورانیے کو بھی کم کر لیجئے جو
اپ نے ایک گھنٹہ شروع میں مختص کیا تھا اہستہ اہستہ 45 منٹ کر لیں پھر ادھا گھنٹہ اور 15 منٹ اب اپ 10 سے 15 منٹ تک سوتے ہیں تو کوئی بڑی بات نہیں ہے یہ یہ ازما کا دیکھیں انشاءاللہ فائدہ ہوگا
بہت زیادہ سوچنا
Overthinking
اور تھنکنگ کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اپ کے ساتھ ماضی میں جو کچھ ہوا وہ اسے بار بار سوچی جا رہے ہیں کہ میرے ساتھ یہ ہوا فلاں نے میرے ساتھ یہ کیا فلاں تکلیف مجھے پہنچی فلاں نے مجھے اس سال تک پہنچایا ہے ان حالات کی وجہ سے نوبت یہاں تک ائی
ہے یہی چیز اگر اپ بار بار سوچ رہے ہیں تو گویا اپ اپنی پریشانی کو مزید پکا کر رہے ہیں سوچ رہے ہیں یا اس کا بار بار تذکرہ کر رہے
ہیں تو بار بار اپ اس کو پکا رہے ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے گا ماضی میں رہنا اور بار بار ماضی کو سوچتے رہنا ہے یہی چیز اپ کو ڈپریشن میں لے جاتی ہے اور اپ کو نفسیاتی مریض بنا دیتی ہے
حل
اس دکھ سے نکلنے کا صرف ایک ہی حل ہے ماضی کو چھوڑ دو اور اپنے حال کو بہتر بنانے کی کوشش میں لگ جاؤ جو ہو گیا سو ہو گیا اسے چھوڑو اسے یاد نہ کرو وہ گزر گیا جو گزر گیا بس گزر گیا اپنے ماضی سے اتنا فائدہ ضرور حاصل کرو کہ جو غلطیاں پہلے کی تھیں اب وہ
دہرائی نہ جائیں اب ان غلطیوں اور ان تجربوں کی روشنی میں سیکھو اور نئی زندگی کا اغاز کرو اس سب کو بھول جاؤ جو ہو چکا ہے اب بس یہ دیکھو کہ اب اپ نے کیا کرنا ہے اپ نے خود کو کیسے سنبھالنا ہے اور اب انے والے حالات کا مقابلہ کیسے کرنا ہے
ماضی کی غلطیوں کو نہ دھراؤ انشاءاللہ اپ بہت جلد سنبھل جاؤ گے
بہت زیادہ سوچنا
اس کی ایک صورت
اس کی ایک صورت یہ بھی ہے کے ماضی میں اگر کسی کے ساتھ کوئی حادثہ پیش ائے اور وہ اس کو بار بار سوچتا رہے تو اس سوچ سے اس کے اندر مستقبل کا خوف پیدا ہو جاتا ہے خوف اس کو بار بار ٹینشن اور ڈپریشن کا شکار کرتا ہے کہ دوبارہ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں
میرے ساتھ ایسا نہ ہو جائے اور یہ وہ خوف ہے اس کے اندر وہ طاقت ہے کہ اپ کی زندگی کو تباہ کرسکتا ہے اپ کی زندگی تباہ کرنے کی طاقت رکھتا ہے یہ خوف
اپ نے کرنا کیا ہے اپ کے کرنے کا کام یہ ہے کہ اپ نے یہ خوف نہیں پالنا بلکہ اپ نے کرنا یہ ہے
اپ نے اس کا حل سوچنا ہے سوچنا یہ ہے کہ الحمدللہ ایسا کچھ نہیں ہوگا خاصہ کوئی حادثہ پیش اگیا تو میرے نبی نے میری رہنمائی فرما
دی ہے شریعت مطہرہ میں اس کا حل موجود ہے میں شریعت مطہرہ سے اس کا حل دیکھوں گا اور اسے حل کر دوں گا جب یہ مشکل
ائے گی تو اس کے ساتھ نمٹنے کا طریقہ بھی اللہ سکھا دے گا ابھی تو ایسا کچھ ہوا نہیں جب ہوگا تب دیکھا جائے گا سوچنے کی بات ہے نا جو مشکل ابھی ائی نہیں ہم اس کے بارے میں اتنا کیوں سوچیں
میں نے اوپر اور تھنکنگ کی کچھ صورتیں بیان کی ہیں اس کے علاوہ کچھ اور بھی ہیں
بہرحال اوپر بیان کی گئی صورتوں میں جہاں تک ہو سکا اس کے سولیوشن کی طرف بھی رہنمائی کرنے کی کوشش کی اگر خدانخواستہ کسی کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ پیش اتا ہے تو ٹرائی کر کے دیکھیں انشاءاللہ فائدہ ہوگا
اگر کسی کے ساتھ ہی پرابلم پیش ائی اس طرح کی اوور تھنکنگ ہونے لگے اپ وضو کریں نوافل پڑھیں اور اللہ کا ذکر کریں اور اپنے طور پر کوشش کریں ان مسائل سے نکلنے کی انشاءاللہ اللہ پاک مدد ضرور کریں گے وہ کبھی اپنے بندے کو تنہا نہیں چھوڑتے کسی بھی
مشکل یا پریشانی میں اس کو تنہا نہیں چھوڑ تے بس ہمارے مانگنے میں کمی ہے اور ہمارے عمل میں کمی ہے اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر لیں انشاءاللہ ہماری ہر مسئلے کا حل نکل ائے گا
اخر میں دعا گو ہوں اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے اور ہمیں دین پر چلنے کی توفیق دے اور ہمیں اس قابل بنائے کہ ہم اللہ کے ساتھ اپنا تعلق جوڑیں