حضرت داؤد علیہ السلام
. . . . . . بسم اللہ الرحمان الرحیم. . . . . ..
(حضرت داؤد علیہ السلام )
آپ نسب نامہ اس طرح ہے داؤد بن ایشا بن عوید بن عابر بن سلمون بن نحشون بن عمیناذب بن ارم بن حصرون بن فارص بن یہودا بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیھم السلام
وہب بن منبہ سے روایت ہے کہ داؤد علیہ السلام کا قد چھوٹا آنکھیں نیلی بال کم اور دل پاکیزہ تھا
حضرت داؤد علیہ السلام نے جب جالوت کو قتل کر دیا تو بنی اسرائیل کے ہاں عزت اور تکریم بڑھ گئی اور بعد میں آپ کو بادشاہ بنا دیا گیا تھا اس کے اللہ تعالیٰ نے
آپ کو نبوت سے بھی نواز دیا اس طرح نبوت اور بادشاہت ایک ہی شخصیت میں جمع ہو گئیں اس سے پہلے اس طرح کبھی نہیں ہوا
امام ابن جریر فرماتے ہیں کہ جب طالوت اور جالوت کا مقابلہ ہوا تو جالوت نے للکارا کہ تم لڑائی کیلئے میرے پاس آؤ گے یا میں آؤں حضرت داؤد علیہ السلام آگے
بڑھے اور جالوت کو قتل کردیا
حضرت داؤد علیہ السلام
اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کو بہت ساری نعمتوں سے نوازا تھا جن میں حسن صوت اور حسن عبادت کےعلاوہ پرندوں اور پہاڑوں کا آپ کیلئے مسخر کر
دینا شامل تھا آپ کے ہاتھ میں لوہا نرم ہو جاتا تھااور یہ وصف آپ کو معجزاتی طور پر عطا فرمایا گیا تھا بعض حضرات فرماتے ہیں کہ لوہا آپ کے ہاتھ میں آتے ہی نرم ہو جاتا اور آپ اس کو موڑ کر جو بنانا چاہتے بنا لیتے اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو لوہا نرم کرنےکا طریقہ سکھا دیا تھا اور اس سے آپ جنگ کیلئے
اسلحہ بناتے تھے آور زرہ سب سے پہلے آپ نےایجاد کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے
ترجمہ =( اور ہمارے بندے داؤد کا تذکرہ کرو جو قوت والے تھے بے شک وہ رجوع کرنے والے تھے ) {سورۃ ص }
اس آیت میں قوت سے مراد کیا ہے اس بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ اس سے مراد عبادت میں قوت ہے
حضرت داؤد علیہ السلام
اللہ تعالیٰ نے نے آپ کو خوب صورت آواز سے نوازا تھا جب آپ تلاوت کرتے تو چرند پرند آپ کے اردگرد جمع ہو جاتے اور پہاڑ بھی آپ کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتے
ان مجموعہ نعمتوں میں سے ایک معاملہ فہمی کی نعمت بھی ہے ان کی اس صفت کے واقعات میں سے ایک یہ ہےکہ دو شخص آپ کی خدمت میں آۓ اور ان میں سےایک نے کہا کہ اس شخص نے میری گاۓ چھین لی ہے مدعا علیہ نے انکار کیا آپ نے فیصلہ مؤخر کر دیا اور رات کو آرام کرنے گئے تو وحی نازل ہوئی کہ مدعی
کو قتل کردو صبح آپ تشریف لاۓ اور مدعی کو کہا کہ اللہ نے مجھے تمہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے اب بتاؤ اصل معاملہ کیا ہے اس نے کہا اے اللہ کے نبی میں نے
اس کے باپ کو قتل کیا ہے لہذا اس کو قتل کردیا گیا
حضرت داؤد علیہ السلام
حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے واقعات میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کر لیا تو ان کو ان کی اولاد سے ملوایا ان میں ایک روشن چہرے والا شخص دیکھا تو پوچھا یا اللہ یہ کون ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ آپ کے بیٹے داؤد علیہ السلام ہیں تو آدم علیہ السلام نے پوچھا کہ ان کی عمر کتنی ہے تو فرمایا ساٹھ سال آپ نے
عرض کی یا اللہ ان کی عمر میں اضافہ کردے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس صورت میں آپ کی عمر کم ہو جائے گی تو فرمایا کہ کر دیجئے تو اللہ تعالی نے حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر سو سال کر دی اور حضرت آدم علیہ السلام کی عمر ایک ہزار سال سے نو سو ساٹھ سال کر دی
حضرت داؤد علیہ السلام
آپ کی وفات کے بارے میں حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آپ بہت غیرت والے تھے جب باہر جاتے تو گھر کو باہر سے کنڈی لگا کر جاتے ایک دن حسب معمول گھر سے نکلے تو ایک انجان شخص گھر میں داخل ہوا آپ کی ازواج میں سے کسی نے دیکھا تو کہنے لگی
کہ یہ کون انجان آدمی ہے اتنے میں آپ گھر تشریف لاۓ اور اجنبی شخص کو گھر میں دیکھا پوچھا کہ تم کون ہو اس نے کہا میں وہ ہوں جو بادشاہوں سے نہیں ڈرتا اور دربانوں سے نہیں رکتا تو آپ نے فرمایا کہ پھر تو آپ ملک الموت ہیں میں اللہ کے حکم پر راضی ہوں اور پھر آپ کی روح قبض کر لی گئی اور آپ کو غسل دیا گیا
اور کفن دیا گیا جب لوگ غسل اور کفن سے فارغ ہوۓ تو دھوپ نکل آئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو حکم دیا کہ اپنے پروں سے سایہ کر لیں تو انہوں سایہ کرلیا اتنے پرندوں نے سایہ کیا کہ اندھیرا ہو گیا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے پرندوں کو ایک پر سمیٹنا کا حکم دیا
nooh in which para
rasool
seerat un nabi
sirat un nabi
hadis nabi
total nabi in islam
seerat un nabi in english
seerat un nabi in urdu
seerat e nabi
allah & muhammad
allah humma sallay ala sayyidina muhammad
asma e nabi
asma un nabi
yusha
yushe
nooh in which para
asma e nabi
asma un nabi